Naat by MALKA-E-PAKISTAN MADAM NOOR JAHAN Kalam Ahmed Raza Khan Brelvi (RA)

0

Naat by MALKA-E- MADAM NOOR JAHAN Kalam Ahmed Raza Khan Brelvi (RA)

 امام احمد رضا بریلوی کی اس نعت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چار زبانوں عربی فارسی ہندی اور اردو میں ہے۔ اس سے بھی زیادہ خاص بات یہ ہے کہ ہر شعر ہی چار زبانوں میں ہے۔ پھر چاروں زبانوں میں برتے گئے آدھے آدھے مصرعے اپنے مفہوم میں باہم اس قدر مربوط ہیں کہ عقل دھنگ رہ جائے۔یہ واحد کلام ہے جو امام احمد رضا خاں بریلوی نے فرمائش پہ تخلیق کیا ہے، ورنہ مزاج یہ تھا کہ وہی کلام کہنے سے دریغ کرتے جس کی فرمائش کردی جاتی۔یہ نعت سعید ہاشمی بھی پڑھ چکےہیں۔

لَم یَاتِ نَظِیرُکَ فِی نَظَر ٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو، ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

اَلبَحرُ عَلَا وَالمَوجُ طَغیٰ ، من بیکس و طوفان ہو شربا
منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہَوا، موری نَیَّا پار لگا جانا

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلٰی لَیلِی ، چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھل جھل جگ میں رچی، مری شب نے نہ دن ہونا جانا

لَکَ بَدرٌ فِی الوَجہِ الاَجمَل، خطہ ہالۂ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پرو کنڈل، رحمت کی بھرن برسا جانا

اَنَا فِی عَطَشٍ وَّسَخَاکَ اَتَم، اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم، دو بوند ادھر بھی گرا جانا

یَا قَافِلَتِی زِیدِی اَجَلَک ، رحمے بر حسرت تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے دَرک دَرک، طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

وَاھًا لِسُوَیعَاتٍ ذَہَبَت ، آں عہد حضو ر بار گہت
جب یاد آو ت موہے کر نہ پرت، دردا وہ مدینہ کا جانا

اَلقَلبُ شَحٍ وَّالھَمُّ شُجُود ، دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کا سے کہوں، میرا کون ہے تیرے سوا جاناں

اَلرُّوحُ فِدَاکَ فَزِد حَرقَا ، یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا، یہ جان بھی پیارے جلا جانا

بس خامۂ خام نوائے رضا، نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ میرا
ارشاد احبا ناطق تھا، نا چار اس راہ پڑا جانا

 

You might also like