اس طرح عہدِ تمنّا کو گزارے جائیے ۔۔ سید حنیف اخگر ملیح آبادی مرحوم

0

اس طرح عہدِ تمنّا کو گزارے جائیے
اُن کو خاموشی کے لہجے میں پُکارے جائیے

عشق کا منصب نہیں آوازۂ لفظ و بیاں
آنکھوں ہی آنکھوں میں ہر شکوہ گزارے جائیے

دیکھیے رُسوا نہ ہو جائے کہیں رسمِ جنوں
اپنے دیوانے کو اِک پتّھر تو مارے جائیے

جذبۂ دل کا تقاضہ ہے کہ بازی جیت لُوں
احتیاطِ عشق کہتی ہے کہ ہارے جائیے

ہو سکے تو دل کی حالت خود ہی آ کر دیکھیے
غیر کی سُنیے نہ کہنے پر ہمارے جائیے

آئینے پر جو گُزرنا ہو گُزر جائے مگر
آپ یُوں ہی زُلفِ برہم کو سنوارے جائیے

کُچھ تو لُطفِ لمسِ آغوشِ تلاطم چاہیے
تا کُجا اخگرؔ کنارے ہی کنارے جائیے

✍️سید حنیف اخگر ملیح آبادی مرحوم

You might also like