ایک مسیحی عورت سے سوال کیا کے کیا عیسی علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں؟

0

نوٹ: قاری حنیف ڈآر

کئ بار عرض کیا گیا ہے کہ سابقہ کتبِ سماویہ میں معنوی تحریف کی گئ ہے ،روایات کے زور پر اس کی آیات کے خلاف عقائد و مسائل اخذ کیئے گئے ہیں، اس کے مخالف فتوے دیئے ہیں ، جس کو قرآن حکیم نے( تجعلونہ قراطیس ) کہ کتاب کی جلد توڑ کر ،اس کا نظم اور سیاق و سباق توڑ کر ورق ورق کر کے اپنے نسخے بیچے ،، کہیں فرمایا کہ( یحرفون الکلم عن مواضعہ ) بات کو موضع سے گھما پھرا کر بیان کرتے ہیں ، البتہ اس عورت کی بات درست ھے کہ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپﷺ کے منہ سے بطور وحی کہا گیا ھے کہ [ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدہ : 44) اس آیت میں یہود کے تورات کے مطابق فیصلہ نہ کرنے کو کفر کہا گیا ھے ، اس کے بعد عیسائیوں کے انجیل کے مطابق فیصلہ نہ کرنے کو فسق قرار دیا گیا ہے [
[ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ] المائدہ۔47

سورہ المائدہ میں ہی فرمایا گیا ھے کہ اگر ان کو اللہ کا حکم یعنی فیصلہ درکار ھے تو وہ تورات میں ان کے پاس موجود ہے پھر آپ کے پاس آنے کا جواز کیا ھے ؟

[ (و کیف یحکمونک وعندهم التوره فیها حکم الله ثم یتولون من بعد ذلک و ما اولئک بالمؤمنین ) المائدہ ـ 43

ہمارا مسئلہ وہ غلط تعلیم ھے جو ھم میں کوٹ کوٹ کر بھری گئ اور اسی کے ذریعے سابقہ کتب کے بارے میں نفرت بھری گئ ـ اگر تورات محرف تھی تو حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کعب احبار سے کونسی تورات حفظ کی تھی ؟

سورس

You might also like